(Holy Trinity) پاک تثلیث

0
494

 

خدا باپ کی گواہی بیٹا خدا ھے :-

خدا باپ کی گواہی ھے کہ بیٹا خدا ھے چنانچہ لکھا ھے کہ

” اور جب پھلوٹھے کو دنیا میں پھر لاتا ھے تو کہتا ھے کہ
خدا کے سب فرشتے اسے سجدہ کریں –
( عبرانیوں 1 / 6 )
” مگر بیٹے کی بابت کہتا ھے کہ اے خدا تیرا تخت
ابدالآباد رہیگا –
( عبرانیوں 1 / 8 )
جب یہواہ خدا باپ خود بیٹے کو خدا کہتا ھے اور دنیا میں لاتا ھے تو لٰہزا بہٹا مجسم ھوا ھے باپ نہیں اور جو خدا کے بیٹے جس کا نام یسوع مسیح ھے اس کے مجسم ھونے کا انکار کرتے ہیں ان کے بارے میں کلامِ مقدس میں درج ھے کہ

” خدا کے روح کو تم اس طرح پہچان سکتے ھو کے جو کوئی روح
اقرار کرے کہ یسوع مسیح مجسم ھو کر آیا ھے وہ خدا کی طرف
سے ھے اور جو کوئی روح یسوع کا اقرار نہ کرے وہ خدا کی طرف
سے نہیں اور یہ مخالفِ مسیح کی روح ھے جس کی خبر تم
سن چکے ھو کہ آنے والی ھے بلکہ اب بھی دنیا میں موجود
ھے –
( 1- یوحنا 4 / 2:3 )

مندرجہ بالا آیات بتاتی ہیں کہ جو خدا کے بیٹے یسوع مسیح کے مجسم ھو کر آنے کا اقرار نہیں کرتے وہ مخالفِ مسیح کی روح کے ہیں یعنی ایسے لوگوں میں خدا کا روح نہیں ھے بلکہ شیطان کا روح ھے ایسے لوگوں کے بارے میں کلامِ مقدس میں لکھا ھے کہ

” اگر کوئی تمہارے پاس آئے اور یہ تعلیم نہ دے ( یسوع مسیح مجسم ھوا ھے ) تو نہ اسے گھر میں آنے دو اور نہ سلام کرو کیونکہ جو کوئی ایسے شخص کو سلام کرتا ھے وہ اسکے برے کاموں میں شریک ھوتا ھے –
( 2- یوحنا 1 / 10 : 11 )

پس خدا کا بندہ یوحنا رسول ایسے لوگوں سے جو بیٹے کے تجسم کا انکار کرتے ہیں دور رہنے کا حکم دیتا ھے اور ہمیں ایسا ہی کرنا چاہیے تاکہ ایسی بڑی بدعت جسکا انجام آگ کی جلتی جھیل ھے اس میں شامل نہ ھوں بلکہ سچائی سے واقف ھوکر گواہی دیں لکھا ھے کہ

” اورسچائی سے واقف ھوگے تو سچائی تم کو آزاد کرے گی –
( یوحنا 8 / 32 )

اگر ہم آزاد ھونا چاہتے ہیں تو پھر ضرورت یہ ھے کہ ہم سچائی سے واقف ھوں سچائی یہ ھے کہ خدا کا بیٹا مجسم ھوا تاکہ ابلیس کے کاموں کو مٹائے ، گناہ اور موت کو مٹائے تاکہ ہم راستباز ٹھہر کر ہمیشہ کی زندگی کے وارث ھوں – اہلِ تثلیث نے کلامِ مقدس میں سے اس ایمان کو حاصل کیا کے خدا کا بیٹا یسوع خدا کے برابر ھے لکھا ھے کہ

” بلکہ خدا کو خاص اپنا باپ کہہ کر اپنے آپ کو خدا کے برابر بناتا تھا
( یوحنا 5 : 18 )

لہٰزا اس آیت سے یہ ثابت ھوتا ھے کہ اونلی جیزز والے اہلِ تثلیث والوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ خدا باپ اورخدا بیٹا دو خدا ھوتے ہیں اس طرح وہ مسیح یسوع پر بھی الزام لگاتے ہیں ان یہودیوں کی طرح جو اس کے بیٹے ھونے کے منکر اور اسے قتل کرنے کی کوشش میں تھے –
لہٰزا یسوع مسیح نے خود کو خدا کے برابر بتا کر یہ نہیں کہا کہ میں الگ دوسرا خدا ھوں بلکہ یہ فرمایا کہ

” میں اور باپ ایک ہیں –
( یوحنا 10/ 30 )
اس آیت میں ایک سے مراد ذات کے اعتبار سے ایک ہیں یسوع مسیح کے بارے میں لکھا ھے کہ

” وہ ( یسوع ) اسکے ( باپ ) جلال کا پرتو اور اسکی ذات کا
نقش ھو کر سب چیزوں کو اپنے قدرت کے کلام سے سنبھالتا ۔۔۔۔۔
( عبرانیوں 1 /3 )
پس ثابت ھوتا ھے کہ جب یسوع نے کثرت کو یعنی ” میں ” اور ” باپ ” دونوں کو ایک کہا تو یہ ثابت کر دیا کہ خدا توحیدِ محض نہیں بلکہ توحیدفی الکثرت اور کثرت فی التوحید ھے یعنی خدا ایک ذات ھے جس میں باپ ، بیٹا اور روح القدس اقانیم کی کثرت سے واحِد خدا ھے ۔ آمین



 

Translated By Google

The testimony of God the Father, the Son is God –
The testimony of God the Father, God the Son is written
“And when I say that if this brings phluthy The World
Let all God’s angels worship him –
(Hebrews 1/6)
“But it says of the Son, Thy throne, O God
Ever shall be –
(Hebrews 1/8)
When Jehovah God is the Father, God the Son and says it brings in removing flesh tone that made the Father and the Son of God whose name is Jesus deny its being embodied in the Holy Scriptures about is that
“The child can recognize the Spirit of God: Every spirit like that
Should confess that Jesus Christ is come in the flesh is from God does
In this and every spirit that does not confess Jesus is God
Not the spirit of anti-Christ is the news you
I have heard it coming, but still exists in the world
Is –
(1 John 4/2: 3)
it is written

(2 John 1/10: 11)
I bear witness that there is
“You know the truth, the truth will set you free hugy –
(John 8/32)
he wrote that the Trinity is the son of God’s word is derived from the belief that Jesus is God
“But especially his own Father, making himself equal to God God
(John 5: 18)
Thus accuse this verse does not prove that the jyzz only: the Trinity of God the Father aurkda son that they are being denied the son who, like the Jews accuse him of Jesus Christ and were trying to kill him –
Thus Jesus showed himself equal to God, I did not say that the other God but Allah
“I and the Father are one –
(John 10/30)
A wise person is one that is written in verse about Jesus Christ
“He (Jesus) he (the father) and his reflection of God’s glory
Image ….. be all things to uphold the word of his power
(Hebrews 1/3)
So does this prove that Jesus was often the “I” and “father” both made it clear then that God is not a religion but a oneness tuhydfy per alksrt and abundance of God Who is the Father, Son and the Holy Spirit, one God in three persons frequently. Amen

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here